ایپل کو آئی فون 12 میں چارجر یا ایئرفون نہ دینے سے کتنا فائدہ ہوگا؟ جان لیں اس خبر میں

ایپل آئی فون 12

ایپل نے آئی فون 12 سیریز کی ڈیوائسز کے ساتھ چارجر اور ایئرفون یا ایئربڈز نہ دینے کا اعلان کیا ہے جس کو ہمارے سیارے کے ماحول کو نقصان دہ گیسز سے تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

مگر یہ زمین کے ماحول کے لیے کتنا اچھا ہوگا یہ تو دیکھنا یا جانچنا تو بہت مشکل ہے مگر کمپنی کے لیے یہ زبردست کمائی کا ذریعہ ضرور ثابت ہوگا۔

ایپل نے 13 اکتوبر کو اپنے ایونٹ میں آئی فون 12 سیریز کے 4 فونز متعارف کرائے تھے اور ماضی کے ماڈلز کے برعکس اب ان آئی فونز کے ساتھ صرف یو ایس بی ٹو لائٹننگ کیبل ہی دی جائے گی۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ وال چارجر اور ایئربڈز کو نکالنے سے کم مائننگ، پیکجنگ اور زمین کو گرم کرنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا باعث بنے گی۔

اس اعلان کا مقصد ایپل کو زیادہ ماحول دوست کمپنی بنانا قرار دیا گیا جس کے لیے اس نے رواں سال جولائی میں مضر گیسوں کے اخراج کی روک تھام کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی ورج کی رپورٹ کے مطابق ایک سنیئر تجزیہ کار اینجلو زینو نے بتایا ‘و اس اقدام کو ماحول دوست اصول کے طور پر پیش کررہے ہیں، مگر یہ ایک اچھا مالیاتی قدم بھی ہے’۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ 5 جی کی جانب بڑھنا ایک بڑی وجہ ہے جس کے باعث ایپل نے لاگت کم کرنے کے ذرائع پر توجہ دی جس کے لیے فونز کے ساتھ کم ایسیسریز دی جارہی ہیں۔

اس سال کے تمام آی فونز میں 5 جی سپورٹ دی گئی ہے جو اس کمپنی کے ایسے اولین فون بھی ہیں۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کو فونز کا حصہ بنانے سے ان کی لاگت گزشتہ سال کے ماڈلز سے زیادہ بڑھ گئی۔

اینجلو زینو کا تخمینہ ہے کہ ریڈیو فریکوئنسی آلات کے استعمال سے نئے آئی فون 12 کی لاگت گزشتہ آئی فونز سے 30 سے 35 فیصد تک بڑھ گئی اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی فون کے دیگر پہلوؤں کی لاگت میں کمی لانا چاہتی ہے۔

وینچر کیپیٹل کمپنی لوپ وینچرز کے منیجنگ پارٹنر جین میونسٹر کے مطابق نئے فونز میں چارجر اور ایئربڈز کو شامل نہ کرنے سے کمپنی کے منافع میں کم از کم ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق ‘میرے خیال میں اس قدم کا مقصد فون کے موجودہ منافع کی سطح کو برقرار رکھنا ہے’۔

مگر دوسرے پہلوؤں سے یہ قدم کمپنی کے مزید منافع کا باعث بنے گا کیونکہ جو لوگ نئے آئی فون خریدیں گے انہیں چارجر اور ہیڈفونز کی ضرورت ہوگی، کیونکہ ایسے لوگ کم نہیں ہوں گے جن کے پاس نئی ڈیوائسز پر کام کرنے والے چارجر اور ہیڈفون ہوں گے۔

مثال کے طور پر اگر اس سال کے فونز 2018 کی تعداد میں فروخت ہوئے یعنی 21 کروڑ سے زائد تو ان میں سے 5 فیصد نے بھی ایئربڈز خریدنے کا فیصلہ کیا تو کمپنی کو اضافی 70 کروڑ ڈالر کا منافع ہوگا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الگ سے چارجر یا ہیڈفون خریدنے سے پیکجنگ فضلے اور گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوگا مگر اس کا الزام ایپل کی بجائے دیگر کمپنیوں کے سر پر جائے گا۔

نئے آئی فون میں یو ایسس بی سی کیبل دی جارہی ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ماضی کے متعدد آئی فونز کے چارجر ان سے مطابقت نہیں رکھتے ہوں گے کیونکہ وہ لائٹننگ کیبل پر کام کرتے ہیں۔

تو ان صارفین کو یو ایس بی سی وال چارجر یا وائرلیس چاجر کی ضرورت ہوگی تاکہ اپنے نئے آئی فونز کو استعمال کرسکیں۔

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *