ایپل کی پالیسی فیس بک کی آمدنی میں نمایاں کمی

ایپل کی پالیسی فیس بک کی آمدنی میں نمایاں کمی

سوشل میڈیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم فیس بک نے وال اسٹریٹ کی سہ ماہی آمدنی اور منافع کی توقعات کو شکست دے دی ہے جس کے تحت عالمی وبا کے دوران آن لائن شاپنگ کے باعث فیس بک کی آمدنی میں 48 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی وبا کے دوران صارفین کی آن لائن شاپنگ کے ذریعے فیس بک کی آمدنی میں 48 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے پیش نظر دنیا کے سب سے بڑے سوشل نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اشتہارات میں اضافے کے لیے ای کامرس خصوصیات پر توجہ مرکوز کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق توسیع شدہ تجارت میں فیس بک کا حصص 6.5 فیصد کے اضافے سے 326 ڈالر پر پہنچ گیا ہے۔
اس حوالے سے فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے ایک پریس کانفرس میں کہا کہ ہمیں ایک مکمل تجارتی خصوصیات سے بھرے پلیٹ فارم کے حصول کے لیے ایک لمباسفر طے کرنا ہے تاہم میں اس منزل تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہوں ۔

مارک زکر برگ کا مزید کہنا تھا کہ فیس بک کے صارفین 10 فیصد اضافے کے بعد2.85 بلین تک پہنچ گئے ہیں۔

دوسری جانب فیس بک نے حال ہی میں انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سال کے آخر میں ایپل کی نئی پالیسی فیس بک کی آمدنی میں نمایاں کمی لاسکتی ہے، نئی پرائیویسی پالیسی ٹارگٹ اشتہارات کو مزید مشکل بنادے گی۔
فیس بک کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ آئی فون کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی فیس بک کے دوسرے سہ ماہی کی آمدنی پر اثر انداز ہوگی تاہم تیسرے اور چوتھے سہ ماہی کی آمدنی میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

فیس بک نے ایپل کی ضروریات پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی فون ایپ ڈویلپز صارفین سے اشتہارات کے حصول کے لیے ایک مخصوص قسم کا ڈیٹا جمع کرنے کا سوال کررہے ہیں۔

فیس بک کے بیان کے مطابق ایپل کی یہ تبدیلی فیس بک کو نقصان پہنچانے کاسبب بن سکتی ہے جس کے ذریعے فیس بک کی چھوٹی کمپنیاں متاثر ہوں گی جو ذاتی نوعیت کے اشتہار پر بھروسہ کرتی ہیں۔

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *