جیمز ویب دوربین کی اولین کلرتصاویر نے دنیا کو اپنے سحر میں لے لیا

جیمز ویب دوربین کی اولین کلرتصاویر نے دنیا کو اپنے سحر میں لے لیا

جیمز ویب دوربین کی اولین کلرتصاویر
اربوں ڈالر مالیت اور 20 سال تک ہزاروں سائنسدانوں کی کاوش سے تیار کی جانے والی جیمز ویب خلائی دوربین نے قریب اور بعید ترین کائنات کی مزید مسحورکن تصاویر جاری کردی ہیں۔

ایک تصویر میں نظامِ شمسی سے پرے ایک سیارہ دیکھا جاسکتا ہے جس میں آبی بخارات دریافت ہوئے ہیں۔ دوسری تصویر میں ایک مرتے ہوئے ستارے کو نیبولہ کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تیسری تصویر میں خوبصورت کہکشائیں ایک دوسرے سے ملاپ کررہی ہیں اور چوتھی تصویر میں نئے ستاروں کی پیدائش اور اس کے نیچے ان ستاروں کا خام مال دیکھا جاسکتا ہے۔

ناسا کی جانب سے براہِ راست نشریات میں گویا اسٹار پارٹی کی صورت میں ان اہم تصاویر کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔ ان تصاویر کی پروسیسنگ دریافت اور اس پر کام کرنے والے ماہرین نے ان کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستانی وقت کے مطابق صبح تین بجے امریکی صدر جوبائیڈن نے جیمز ویب کی جانب سے جاری پہلی تصویر جاری کی تھی جو ایک انتہائی قدیم کہکشاں ایس ایم اے سی 0723کی تھی۔ یہ کہکشاں کائنات کی پیدائش کے صرف ایک ارب سال بعد پیدا ہوئی تھی۔ اسے دیکھ کر ہم کائنات میں کہکشاؤں کے ارتقا کو جان سکتے ہیں۔

تاہم آج ناسا نے مزید چار تصاویر جاری کی ہیں جن میں سے پہلی تصویر بالراست ایک سیارے کو ظاہر کرتی ہے۔

 

دوربین سے جاری پہلی تصویر، نظامِ شمسی سے پرے کسی اور سیارے یعنی ایگزپلانیٹ کی پہلی تصویر ہے۔ یہ گرم گیسوں والا ایک سیارہ ہے جس کی براہِ راست تصویر تو نہیں لی جاسکی تاہم اس کی فضا میں پانی مائع کی بجائے بخارات یا بھاپ کی صورت میں موجود ہے۔

دوسری تصویر ستارے کی آخری ہچکی کو نیبولہ کی صورت میں ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک خوبصورت پلانیٹری نیبولہ ہے۔ اس کا مادہ لہروں کی صورت دکھائی دے رہا ہے۔ نارنجی رنگ ہائیڈروجن کی وجہ سے ہے۔ درمیان میں نیلی روشنی گرم آئنوائز گیس کو ظاہر کررہی ہے۔ اس نیبولہ کی تصویر کے درمیان میں انتہائی قریب دو ستارے دکھائی دے رہے ہیں۔

تیسری تصویر اسٹیفینس کوئنٹیٹ ہے جو چار کہکشاؤں کا ایک مجموعہ ہے۔ اس میں دسیوں لاکھ سے لے کر ارب ستارے تک ہوسکتے ہیں۔ یہ کہکشاں ہم سے 30 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں۔ دائیں جانب نیچے والی کہکشاں اوپر موجود کہکشاں سے ملاپ کررہی ہے۔

اس میں کہکشاں ایک دوسرے میں مدغم دکھائی دے رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ایک نہایت اہم تصویر بھی ہے۔ اس سے کہکشاں کا ارتقائی عمل بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس میں نیئر(قریبی) اور مڈ(درمیانی) انفراریڈ تصاویر کو ملایا گیا ہے۔ پس منظر میں کئ ستارے بن رہے اور گیس و گردوغبار بھی دکھائی دے رہی ہے۔

اسی تصویر میں جب قریبی انفراریڈ طیف کو ہٹایا گیا تو مزید تفصیل سامنے آئی ہیں جن میں ایک سرگرم بلیک ہول کی نشاندہی بھی ہوئی ہے۔ بلیک ہول اطراف کی روشن گیس کو گویا اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔ اس عمل سے گرم گیس کے لپٹے مزید دہکنے لگے ہیں اور ان کی روشنی ہمارے سورج سے 40 ارب گنا ہوگئی ہے جو اوپرکی کہکشاں میں غیرمعمولی روشنی کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔

نیئر انفراریڈ اسپیکٹروگراف، اس کا خاص طیف نگار، یورپی خلائی ایجنسی نے بنایا ہے جو ناسا سے اشتراک کے تحت سامنے آیا ہے۔ اسپیکٹروگراف بتاتا ہے کہ کسی خلائی جسم کی کیمیائی ترکیب کیا ہے اور اس میں کونسے عناصر موجود ہیں۔

اسے جیمز ویب کی سب سے اہم اور خوبصورت تصویر قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ ستاروں کی نرسری ہے جہاں نت نئے ستارے پیدا ہورہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت اور مسحور کن تصویر ہے۔ یہ مقام ہمارے کرہِ ارض سے 7600 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایسا منظر انسانی آنکھ نے پہلے نہیں دیکھا تھا جس میں سینکڑوں نئے ستارے پیدا ہورہے ہیں۔

اس تصویر میں بلبلہ نما ساخت، خالی جگہیں اور دیگر خدوخال دیکھے جاسکتے ہیں جو نئے ستارے کے وجود کے ساتھ ہی سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس کے پس منظر میں مزید کہکشائیں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔ البتہ کچھ ساختیں ایسی ہیں جن پرابھی غورکیا جانا ہے کہ وہ کس طرح وجود پذیر ہوئی ہیں۔

تصویر کے اوپری نیلے حصے میں بہت بڑے ستارے دیکھے جاسکتے ہیں جو حال ہی میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے نیچے براؤن اور نارنجی ساختیں انہی ستاروں کی اشعاع (ریڈی ایشن) سے وجود میں آئی ہیں اور یہ گیس اور گردوغبار پر مشتمل بڑی بڑی ساختیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ستارے گیس اور گردوغبار سے ہی تشکیل پاتے ہیں۔ ایک مقام پر مادہ جمع ہوتا ہے اور ثقل اور دباؤ کے تحت بھڑک اٹھتا ہے۔

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *