سیارچوں کی شناخت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ریڈار تیار

سیارچوں کی شناخت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ریڈار تیار

سیارچوں کی شناخت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ریڈار تیار
چین کی جانب سے زمین کے لیے خطرہ ثابت ہونے والے سیارچوں کی شناخت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ریڈار تیار کیا جارہا ہے۔

یہ دنیا کا پہلا ڈیپ اسپیس ریڈار ہوگا جو زمین کے لیے خطرہ ثابت ہونے والے سیارچوں کو دریافت کرے گا۔

بیجنگ انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سمیت چین کی کئی یونیورسٹیوں کی جانب سے اس حوالے سے کام کیا جارہا ہے جسے کمانڈ آئی کا نام دیا گیا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق اس ریڈار کی رینج سب سے زیادہ ہوگی جو مجموعی طور پر 15 کروڑ کلومیٹر ہوگی۔

اگر آپ کو معلوم نہ ہو تو جان لیں کہ چاند زمین سے 3 لاکھ 40 ہزار کلومیٹر دور ہے۔

ریڈار میں 20 بڑے انٹینا ہوں گے اور ہر انٹینا 25 سے 30 میٹر کا ہوگا جو ریڈار کی رینج میں سگنلز بھیج سکیں گے۔

یہ انٹینا حشرات الارض کی آنکھوں کی طرح کام کریں گے اور ان سے خارج ہونے والے سگنل سیارچوں سے ٹکرا کر واپس آسکیں گے، جس سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ کونسا سیارچہ زمین پر ممکنہ طور پر اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

یہ ریڈار چاند کے تھری ڈی خاکے بھی بناسکے گا اور چینی میڈیا کے مطابق اب تک ایسے 4 میں سے 2 ریڈار تیار ہوچکے ہیں جو ستمبر تک فعال ہوجائیں گے۔

یہ اس پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ ہوگا اور دوسرے مرحلے میں ریڈار میں انٹینا کی تعداد بڑھائی جائے گی تاکہ اس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکے جبکہ تیسرے مرحلے میں ریڈار کو دنیا کے پہلے ڈیپ اسپیس ریڈارکے طور پر لانچ کیا جائے گا۔

ایک سیارچے کا زمین سے ٹکرانا بدترین قدرتی آفت ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ان کے ٹکرانے سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوگی۔

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published.