فیس بک کلاؤڈ گیمنگ کی دنیا میں قدم رکھنےوالی ایک اورکمپنی بن گئی

فیس بک کلاؤڈ گیمنگ

فیس بک کلاؤڈ گیمنگ کی دنیا میں قدم رکھنے والی ایک اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنی بن گئی ہے مگر حرفیوں کے برعکس اس کے طریقہ کار مختلف ہے۔

ایمیزون یا گوگل اور دیگر کمپنیوں کی جانب سے فیس کے عوض کلاؤڈ گیمنگ سروسز فراہم کی جاتی ہے مگر فیس بک کی جانب سے مفت سروس فراہم کی جائے گی۔

فیس بک کے نائب صدر جیسن روبن نے بتایا ‘ہم مفت کھیلی جانے والی گیمز صارفین کو فراہم کریں گے، کم از کم آغاز پر، ہم 4 کے، 60 فریم فی سیکنڈ کا وعدہ نہیں کررہے، جس کے عوض آپ کو ماہانہ 7 ڈالرز ادا کرنا پڑتے ہیں، ہم کوئی ہارڈوئیر جیسے کنٹرولر بھی فروخت کرنے کی کوشش نہیں کررہے’۔

انہوں نے بتایا کہ فیس بک کی جانب سے کلاؤڈ گیمنگ میں قدم رکھنے کی وجہ ایسی گیمنز صارفین تک پہنچانا ہے جو ہم فراہم کرسکتے ہیں۔‎

فیس بک میں گیمز کے اضافے کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے جس کا آغاز فلیش پر مبنی گیمز جیسے فارم ویلے سے ہوا جس کے بعد اس کمپنی نے اپنے انسٹنٹ گیمز پلیٹ فارم کے لیے ایچ ٹی ایم ایل 5 کی جانب پیشرفت کی۔

مگر یہ دونوں ٹیکنالوجیز کافی محدود اور سادہ ہیں۔

جیسن روبن نے بتایا کہ کلاؤڈ پلیٹ فارم پر زیادہ پیچیدہ گیمز صارفین تک پہنچ سکیں گی جبکہ انسٹنٹ گیمز پلیٹ فارم بھی اپنی جگہ موجود رہے گا جو فیس بک ایپ میں کلاؤڈ گیمنگ کے ساتھ ہوگا۔

خیال رہے کہ فیس بک نے گزشتہ سال اسپین کی کلاؤڈ گیمنگ سروس پلے گیگا کو خریدا تھا جو اس نئی سروس میں مددگار ثابت ہوگی۔

جیسن روبن کا کہنا تھا کہ اس نئے پلیٹ فارم سے 30 کروڑ افراد کے لیے گیمز کی سہولت برقرار رہے گی، مگر وہ زیادہ پیچیدہ گیمز کھیل سکیں گے۔

یہ مفت گیمز فیس بک میں بیٹاورژن میں 26 اکتوبر سے دستیاب ہوں گی اور کچھ گیمز جیسے تھری ڈی ریسر اسفالٹ 9 اور موبائل لیجنڈز : ایڈونچر کھیلی جاسکیں گی۔

جیسن روبن نے بتایا کہ اس سروس کا آغاز امریکا میں ویب اور اینڈرائیڈ پر فیس بک ایپ سے ہورہا ہے اور فی الحال آئی او ایس اس میںن شامل نہیں، کیونکہ وہ ہمارے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، اس میں فیس بک کو براؤزر اورر گیمز لانچ کرنے سے روکا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ سروس لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی اور بتدریج اس میں تبدیلیاں لائی جائیں گی۔

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *