نوجوان لڑکیوں کے لیے پرائیڈ آف پرفارمنس اور ساری زندگی شوبز کو دینے والے نظر انداز؟ اداکارہ عذرا آفتاب کا حیران کن بیان

 اداکارہ عذرا آفتاب
نامورسینئر اداکارہ عذرا آفتاب نے کہا ہے کہ مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل کرنے کا معیار کیا ہے۔

جن لوگوں نے سالہاسال محنت کر کے نام اور شہرت حاصل کی، اپنی فنی صلاحیتوں کو منوایا وہ آج بھی پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل نہیں کر سکے اور کل آنے والی لڑکیاں پرائیڈ آف پرفارمنس کس طرح حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ اس راز سے پردہ اٹھنا چاہیے۔

عذرا آفتاب نے کہا کہ میرے علاوہ شوبز انڈسٹری میں ایسے فنکار موجود ہیں جن کو شوبز کے میدان میں 30سال کا عرصہ بیت گیا مگر ان کو پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے ہمیشہ دور رکھا گیا اور خاص طور پردیبا بیگم، زیبا شہناز، عائشہ خان، عمر شریف، شبیر جان، اسلم شیخ، شہزاد رضا، ذوالقرنین حیدر، ماہ نور بلوچ، انور علی، جواد وسیم اور عرفان ہاشمی جیسے سینئر اداکار شامل ہیں۔

جتنا ان فنکاروں کوتجربہ ہے اس سے کم عمر کی لڑکیاں پرائیڈ آف پرفارمنس حاصل کر چکی ہیں۔ جس سے پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ نامزد کرنے والی کمیٹی کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر شوبز کے شعبہ میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے منظر عام پر لایاجائے۔

Spread the love