وزیراعظم نے اچانک قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کیوں طلب کر لیا؟ اہم وجہ سامنے آ گئی

وزیراعظم نے کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں اراکین اسمبلی کو درپیش عوامی مسائل کے فوری حل پر مشاورت کی گئی جبکہ وزراء اور اراکین نے شکوے شکایات بھی کیں۔

ارکان نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور سیکرٹری توانائی کے عدم تعاون کی شکایات کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری ارکان اسمبلی کی بات نہیں سن رہے اور بیوروکریسی تعاون نہیں کر رہی جبکہ بلوچستان حکومت بھی بات سننے کو تیار نہیں۔

وزیراعظم نے ارکان کی شکایات کو فوری حل کرنے اور صوبوں میں ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ عمران خان نے کہا کہ فی الحال قومی مسائل اور چیلنجز پر مل کر قابو پانا ہے، حکومت کی پوری توجہ مہنگائی میں کمی پر مرکوز ہے، حلقوں کے ترقیاتی مسائل کا بھی علم ہے جنہیں جلد اسے حل کیا جائے گا۔

مزید جانیے: گلگت بلتستان سے کورونا وائرس کے تیسرے کیس کی تصدیق، پاکستان میں تعداد 21 ہو گئی

اجلاس میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی تجاویز پر بھی گفتگو ہوئی اور بلوچستان سے منسلک سرحد بند کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔ وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے پہلے سے الرٹ تھے، صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بڑا چیلنج توانائی کا شعبہ ہے جس میں خسارے کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، لیکن ماضی کے معاہدے ریلیف اقدامات میں رکاوٹ ہیں، مہنگی بجلی بنا کر سستی بیچ رہے ہیں ایسے میں خسارہ کیسے پورا ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے انتہا پسندانہ اقدامات سے بھارت کا تشخص بڑی بری طرح پامال ہو چکا ہے، آج پاکستان اوپر جارہا ہے اور بھارت پیچھے جارہا ہے۔

Spread the love