چین میں دنیا کی پہلی تھری ڈی اینکر متعارف

جدید سائنس کا ایک اور شاہکار سامنے آگیا، چین میں دنیا کی پہلی تھری ڈی اینکر کو متعارف کروادیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پہلی تھری ڈی اے سے چلنے والی نیوز اینکر متعارف کروادی۔

یہ تھری ڈی اینکر اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جو آسانی سے گھوم سکتی ہے اور چہرے کے پیچیدہ تاثرات بھی ڈسپلے کرسکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وہ مختلف منظر ناموں کے مطابق اپنے لباس اور بالوں کی طرز میں بھی تبدیلی لاسکتی ہے، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون اینکر سر کو زور سے جھپکتی ہے اور پلکے بھی جھپکاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ میں بیٹھے ہوئے، کھڑے ہوئے یا گھومتے پھرتے ہوئے بھی پیش ہوسکتی ہوں، میرے چہرے کے لچکدار اظہار، نقل حرکت اور ہیئر اسٹائل کپڑے بھی تبدیل کرسکتی ہوں۔

‘رپورٹ کے مطابق مستقبل میں مزید خبروں کے منظر ناموں کو پیش کیا جائے گا۔ ورچوئل ویمن رپورٹر نے مزید کہا کہ میرے تاثرات اور نقل و حرکت کو بہتر اور اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

زن ژاؤئی نامی اینکر کو چینی تلاشی کی ایک کمپنی ، جو ویب تلاش میں مہارت رکھتی تھی۔ خبر ایجنسی کے موجودہ معاملات کی کوریج کرنے والی رپورٹر ژاؤ وانوی نے اس کے بعد ماڈلنگ بھی کی۔