گوگل کی جانب سے جاری کردہ ڈوڈل میں لوگوں کو ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ سمجھایا گیا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے پھیلے خوف کے باعث جہاں لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھروں تک محدود ہورہے ہیں وہیں اب سرچ انجن گوگل نے بھی اس حوالے سے اپنا ڈوڈل جاری کردیا۔

گوگل نے اپنے ڈوڈل میں انفیکشن کنٹرول کرنے کی ابتدا کرنے والے اور ہاتھوں کی صفائی میں رہنمائی کرنے والے ہنگری کے معالج اگناز سیمیلویس (Ignaz Semmelweis) کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

آپ کو یہ سن کر ضرور حیرانی ہوگی کہ میڈیسن میں بھی ہاتھ دھونے کا رواج ہمیشہ سے عام نہیں تھا، 19ویں صدی کے وسط میں ڈاکٹر اگناز سیمیلویس نے یہ بات نوٹ کی کہ مائیں بچوں کو جنم دینے کے فوری بعد کسی نامعلوم بیماری میں مبتلا ہونا شروع ہوئیں جس کے بعد چند کی موت بھی واقع ہوئی۔

اس وقت انہوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کی وجہ سے یہ خواتین بیماریوں میں مبتلا ہورہی ہیں، جس کے بعد 1847 میں آسٹریا کے شہر ویانا کے ہسپتال میں چیف ریسیڈنٹ کی حیثیت سے مقرر ہونے والے اگناز سیمیلویس نے ڈاکٹرز سمیت پورے اسٹاف کو ہاتھ دھونے کی ہدایت دی۔

مزید پڑھیں: اگر ہاتھ نہ دھوئیں تو پھر جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟

ان کے اس نظریے کو کئی دہائیوں تک ساتھی ڈاکٹروں نے تو قبول نہیں کیا لیکن ڈاکٹر سیمیلویس کی کاوشوں کی بدولت ویانا جنرل ہسپتال میں انفیکشن کی شرح میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔

یہی وجہ ہے کہ آج گوگل نے ڈوڈل کے ذریعے ڈاکٹر اگناز سیمیلویس کے اعزاز میں ایک ویڈیو جاری کی۔

اس ویڈیو میں ڈاکٹر لوگوں کو ہاتھ دھونے کا صحیح طریقہ سکھاتے نظر آئے جبکہ ویڈیو میں ہاتھ دھونے کے لیے 40 سیکنڈ دورانیے کا ایک ٹائمر بھی موجود تھا۔

گوگل نے ہاتھ دھونے کا طریقہ سکھاتے ہوئے ایک چارٹ بھی جاری کیا۔

Images Collected from Internet