کورونا وائرس کے پیش نظر قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

کورونا وائرس کی وجہ سے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اجلاس اسپیکراسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیر مملکت علی محمد خان نے اجلاس ملتوی کرنے کے لیے تحریک پیش کی تھی۔

علی محمد خان نے اپنی قرار داد کے حق میں کہا کہ کرونا وائرس کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے تمام اپوزیشن جماعتوں سے بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے متعلق وزیراعظم عمران خان سے بھی بات کر چکا ہوں۔ حکومت کسی قسم کی افراتفری نہیں پھیلانا چاہتی اور ہم چاہتے ہیں کہ اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔

اجلاس ملتوی ہونے سے قبل پارلیمانی سیکرٹری برائے ہوابازی کیپٹن ریٹائرڈ جمیل نے ایوان کو آگاہ کیا کہ سعودی عرب سے لوگوں کو لانے اور لے جانے کے لئے خصوصی پروازیں شروع کی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اپنے شہریوں کے متعلق حکومت کو احساس ہے اور سعودی عرب سے جو پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں ان کو لایا جائے گا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس انسان کا بنایا ہوا بحران ہے اور ڈبلیو ایچ او اس کو عالمی سطح کا خطرہ قرار دے چکا ہے۔

ہم چین اور جنوبی کوریا کی طرح کرونا سے ڈیل کریں۔ امریکہ چین کا مذاق اڑا رہا تھا آج امریکہ کا حال دیکھ لیں۔نفیسہ شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کورونا کے مشتبہ مریضوں کا پیچھا کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ وفاقی حکومت بتائے تفتان بارڈر سے کچھ لوگ بھاگ کر آئے ہیں ، وہ کہاں ہیں؟

حکومتی بینچوں کی جانب سے نفیسہ شاہ کے سوالوں کا کوئی جواب دیئے بغیر قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

Spread the love