ایک ارب سے زائد اینڈرائیڈ ڈیوائسز کو ہیکنگ کے خطرے کا سامنا ہے کیونکہ انہیں نئی سیکیورٹی اپ ڈیٹس سے تحفظ نہیں مل رہا۔

یہ بات انٹرنیٹ کنزیومر واچ ڈاگ وچ ؟ (Which?) نے ایک رپورٹ میں بتائی۔ ایسے تمام افراد جو اینڈرائیڈ 7 سے پہلے کے آپریٹنگ ورژن پر کام کرنے والے اینڈرائیڈ فونز استعمال کررہے ہیں، کو خطرے کا سامنا ہے۔

گوگل کے اپنے ڈیٹا کے مطابق دنیا بھر میں اینڈرائیڈ کے 42.1 فیصد صارفین 6.0 یا اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹم والی ڈیوائسز کو استعمال کررہے ہیں۔

آپریٹنگ سیکیورٹی بلیٹن کے مطابق اینڈرائیڈ 7 سے پہلے کے اینڈرائیڈ سسٹمز کے لیے 2019 میں کوئی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری نہیں ہوئی۔ ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد واچ ڈاگ نے بتایا کہ دنیا بھر میں اینڈرائیڈ کے 5 میں سے 2 کو سیکیورٹی اپ ڈیٹس مزید موصول نہیں ہورہیں۔

اس ادارے نے 5 فونز موٹرولا ایکس، سام سنگ گلیکسی اے 5، گلیکسی ایس 6، سونی ایکسپیریا زی ٹو اور ایل جی/ گوگل نیکسز 5 جو ٹیسٹ کرتے ہوئے اینٹی وائرس لیب اے وی Comparatives کو ان ڈیوائسز کو میل وئیر سے متاثر کرنے کا کہا اور اس نے کامیابی سے ہر فون کو میل وئیرز سے متاثر کیا۔

رپورٹ کے مطابق نتائج کو گوگل سے شیئر کیا گیا مگر اس کی جانب سے ایسی یقیین دہانی نہیں کرائی گئی کہ وہ ان پرانی ڈیوائسز استعمال کرنے والے صارفین کو اپ ڈیٹس فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

واچ ڈاگ نے گوگل اور دیگر کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے زیادہ شفافیت کا اظہار کرے کہ وہ اسمارٹ ڈیوائسز کو کتنے عرصے تک اپ ڈیٹس فراہم کریں گی۔

واچ ڈاگ کی کمپیوٹنگ ایڈیٹر کیٹ بیون نے کہا ‘یہ بہت تشویشناک ہے کہ مہنگے اینڈرائیڈ ڈیوائسز کی شیلف لائف اتنی مختصر ہے اور سیکیورٹی سپورٹ سے مھرومی کے نتیجے میں کروڑوں صارفین کو سنگین نتائج کا سامنا ہے کیونکہ وہ ہیکرز کا شکار ہوسکتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ گوگل اور دیگر فون بنانے والی کمپنیوں کو سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے لیے آگے آنا چاہیے اور صارفین کو واضھ معلومات فراہم کرنی چاہیے کہ وہ کب تک فراہم کی جائیں گی اور کب ان اپ ڈیٹس کو روک دیا جائے گا۔

Images Collected from Internet